پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے

islamkidunya
PAIGHAM SABA LAYEE HAI YEH GULZAR E NABI NAAT LYRICS

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

PAIGHAM SABA LAYEE HAI YEH GULZAR E NABI NAAT LYRICS 

اُرْدُو نعت لیرکس – پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے

پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

ہر آه گئی عرش پہ یہ آه کی قسمت
ھر اشک پہ اک خلد ہے ہر اشک کی قیمت

تحفہ یہ ملا ہے مجھے سرکار نبی سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

شکر خدا کی آج گھڑی اس سفر کی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے

گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے
نا شکر یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے

لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یوں ہی سنا کیے
ہر بار دی وہ امن کہ غیرت حضر کی ہے

ہم کو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائے
حیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے

ماہ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے
یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے

اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دئیے
اصل مراد حاضری اس پاک در کی ہے

کعبہ کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے

ان پر درود جن کو حجر تک کریں سلام
ان پر سلام جن کو تحیت شجر کی ہے

جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ بارگاہ مالک جن و بشر کی ہے

ان پر درود جن کو کس بیکساں کہیں
ان پر سلام جن کو خبر بے خبر کی ہے

شمس و قمر سلام کو حاضر ہی السلام
خوبی انہی کی جوت سے شمس و قمر کی ہے

سب بحر و بر سلام کو حاضر ہیں السلام
تملیک انہی کے نام تو بحر و بر کی ہے

سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں السلام
کلمے سے تر زبان درخت و حجر کی ہے

عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں السلام
ملجا یہ بارگاہ دعا و اثر کی ہے

شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں السلام
راحت انہی کے قدموں میں شویدہ سر کی ہے

خستی جگر سلام کو حاضر ہیں السلام
مرہم یہیں کی خاک تو خستہ جگر کی ہے

سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ جلو گاہ مالک ہر خشک و تر کی ہے

سب کروفر سلام کو حاضر ہیں السلام
ٹوپی یہیں تو خاک پہ ہر کروفر کی ہے

اہل نظر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ گرد ہی تو سرمہئ سب اہل نظر کی ہے

 

عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی

اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنت کی جوانی
سنتا نہیں زاہد سے میں حوروں کی کہانی

الفت ہے مجھے سایہ دیوار نبی سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

جنت میں آکے نار میں جاتا نہیں کوئی
شکرِ خدا نوید نجات و ظفر کی ہے

مومن ہوں مومنوں پہ رؤف و رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا نہر کی ہے

دامن کا واسطہ مجھے اس دھوپ سے بچا
مجھ کو تو شاق جاڑوں میں اس دوپہر کی ہے

ماں ، دونوں بھائی ، بیٹے ، بھتیجے ، عزیز ، دوست
سب تجھ کو سونپے مِلک ہی سب تیرے گھر کی ہے

جن جن مرادوں کے لئے احباب نے کہا
پیش خبیر کیا مجھے حاجت خبر کی ہے

آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے
آ کچھ سنا دے عشق کے بولوں میں اے رضا

مشتاق طبع لذّتِ سوزِ جگر کی ہے
بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے
کھبتی ہوئی نظر میں یہ ادا کس سحر کی ہے
چھبتی ہوئی جگر میں یہ صدا کدھر کی ہے

ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری
کشت امل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے

ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو یہ عظمت کس سفر کی ہے

‘ہم گرد کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وه
ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے

کالک جبیں کی سجدهء در سے چھڑاؤ گے
مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے

ڈوبا ہوا ہے شوق میں زمزم اور آنکھ سے
جھالے برس رہے ہیں یہ حسرت کدھر کی ہے

برسا کہ جانے والوں پہ گوھر کروں نثار
ابر کرم سے عرض یہ میزاب زر کی ہے

آغوش شوق کھولے ھے جن کے لیے حطیم
وه پھر کے دیکھتے نہیں یہ دھن کدھر کی ھے

آیا ھے بلاوا مجھے دربار نبی سے
ہاں ہاں راه مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ

او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے
واروں قدم قدم پہ کہ ہر دم ہے جان نو

یہ راه جاں فزا میرے مولا کے در کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

گھڑیاں گئی ہیں برسوں کی یہ شب گھڑی پھری
مرمرکے پھر یہ سل مرے سینے سے سر کی ہے

الله اکبر اپنے قدم اور یہ خاک پاک
حسرت ملائکہ کو جہاں وضیع سر کی ہے

معراج کا سماں ہے کہاں پہنچے زائرو….!!
کرسی سے اونچی کرسی اس پاک در کی ہے

سعدین کا قرآن ہے پہلوۓ ماه میں
جھرمٹ کیے ہیں تارے تجلی قمر کی ہے

محبوب رب عرش ہے اس سبز قبہ میں
پہلو میں جلوه گاه عتیق و عمر کی ہے

چھاۓ ملائکہ ہیں لگا تار ہے درود
بدلے ہیں پہرے بدلی میں بارش اودھر کی ہے

ستر ہزار صبح ہیں ستر ہزار شام
یوں بندگی زلف و آٹھوں پہر کی ہے

جو اک بار آۓ، دوباره نہ آئیں گے
رخصت ہی بارگاه سے بس اس قدر کی ہے

تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب
بے حکم کب مجال پرندے کو پر کی ہے

اے واۓ بے کسی یہ تمنا کہ اب امید
دن کو شام کی ہے نہ شب کو سحر کی ہے

یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروڑوں کی آس جاۓ
اور بارگاه مرحمت عام تر کی ہے

معصوموں کو ہے عمر ایک بار بار
عاصی پڑے رہیں تو صلا عمر بھر کی ہے

زنده رہیں تو حاضری اے بارگاه نصیب
مر جائیں تو حیات ابد عیش گھر کی ہے

کیوں باجدارو! خواب میں دیکھی کبھی یہ شے
جو آج جھولیوں میں گدایان در کی ہے

 

اے صبا مصطفٰی سے کہہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں

اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا 

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند
سیدھی سڑک یہ شہر شفاعت نگر کی ہے

عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہدو
مکہ نہیں کہ جانچ جہاں خیر و شر کی ہے

کعبہ ہے بے شک انجمن آرا دلہن مگر
ساری بہار دلہنوں دولہا کے گھر کی ہے

کعبہ دلہن ہے تربت اطہر نئی دلہن
یہ رشک آفتاب وه غیر ست قمر کی ہے

دونوں بنی سجیلی انیلی بنی مگر
جو پی کے پاس ہے وه سہاگن کنور کی ہے

اتنا عجب بلندی جنت پہ کس لیے
دیکھا نہیں کہ بھیک یہ کس اونچے گھر کی ہے

عرش بریں پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دماغ
اتری ہوئی شیبہ ترے بام و در کی ہے

وه خلد جس میں اترے گی ابرار کی برات
ادنی نچھاور اس مرے دولہا کے سر کی ہے

اف یہ بے حیائیاں کہ یہ منہ اور ترے حضور
ہاں تو کریم ہے تری خو درگذر کی ہے

تجھ سے چھپاؤں منہ تو کروں کس کے سامنے
کیا اور بھی کسی سے توقع نظر کی ہے

جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
کیا پرستشوں اور جا بھی سگ بے ہنر کی ہے

مجرم بلائے آئے ہیں جَآءُ وْکَ ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

پہلے ہو ان کی یاد کہ پائے جلا نماز
یہ کہتی ہے اذان جو پچھلے پہر کی ہے

سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے

لب واہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں
کتنے مزے کی بھیک ترے پاک در کی ہے

مانگیں گے مانگیں جائیں گے منہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ ‘لا’ ہے نہ حاجت ‘اگر’ کی ہے

منگتے کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے

پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

جنت نہ دیں، نہ دیں، تری محبت ہو خیر سے
اس گل کے آگے کس کو ہوس برگ وبر کی ہے

شربت نہ دیں، نہ دیں، تو کرے بات لطف سے
یہ شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے

سنکی وه دیکھ باد شفاعت کی دے ھوا
یہ آبرو رضا ترے دامان تر کی ہے

(لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا (مع ترجمہ

اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

Comments

Leave a Reply

Next Post

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ HAAJIYO AAO SHAHENSHAH KA ROZA DEKHO  اُرْدُو نعت لیرکس – حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو  […]
HAAJIYO AAO SHAHENSHAH KA ROZA DEKHO
%d bloggers like this: