سید الاستغفار – استغفار کا سردار – Syed ul Astaghfar (حدیث)

Admin

استغفار کا سردار – سید الاستغفار

          حضرت شداد بن اوس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ  اللہﷺ  نے ارشادفرمایا:

’’سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو

اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّى، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِى وَأَنَا عَبْدُكَ ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَىَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِى، فاغْفِرْ لِى ، فَإِنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ

 یعنی الٰہی تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو نے مجھے پیدا کیا، میں  تیرا بندہ ہوں  اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں ، میں  اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں  اور اپنے گناہوں  کا اقراری ہوں ، مجھے بخش دے تیرے سوا گناہ کوئی نہیں  بخش سکتا۔

حضور اقدس  نے ارشاد فرمایا کہ جو یقینِ قلبی کے ساتھ دن میں  یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقینِ دل کے ساتھ رات میں  یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا۔”

(بخاری، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار، ۴ / ۱۸۹، الحدیث: ۶۳۰۶)

 ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں 

                                                حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ پیکرِ اَنوار، مدینے کے تاجدارﷺ نے

فرمایا: ’’جب کوئی شخص اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلے اور یہ کلمات پڑھے تواللہ عَزَّوَجَلَّ ستر ہزار فرشتے مقر رفرماتا ہے جو اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے وَجْہِ کریم کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتاہے یہاں تک کہ وہ شخص اپنی نماز پوری کر لے۔

:وہ کلمات یہ ہیں 

’ اللہم   إِنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَایَ فَإِنِّیْ لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِیَاءً وَلَا سُمْعَۃً خَرَجْتُ اِتِّقَاءً سَخَطِکَ وَابْتِغَاءً مَرْضَاتِکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُنْقِذَنِیْ مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ ل ذُنُوبِیْ إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ‘‘

                                                ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے اس حقْ کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں جو سائلوں کا تجھ پر ہے اور اس حق کے طفیل جوتیری طرف

میرے اس چلنے کا ہے کیونکہ میں فخر اور غرور اور لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لئے نہیں چلا بلکہ میں تو تیری ناراضی سے بچنے اور تیری خوشنودی حاصل کرنے نکلا ہوں

،میں تیری بارگاہ میں عرض کرتا ہوں کہ مجھے جہنم کی آگ سے بچا اور میرے گناہ معاف فرما کیونکہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والاہے۔

(ابن ماجہ، کتاب المساجد و الجماعات، باب المشی الی الصلاۃ، ۱/۴۲۸، حدیث: ۷۷۸)

ایمان كے متعلق احادیث

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

10 Powerful Islamic Duas When Facing Difficulties and Problems

Islamic Duas When Facing Difficulties. There are countless problems we come across in our lives. Duas to recite in difficulty are the form of great blessings given by our Creator. In a hopeless situation, the only hope is Almighty Allah and in the remembrance of Allah, we find peace. Duas […]
10 Powerful Islamic Duas When Facing Difficulties and Problems in Life