کسریٰ کے کنگن ایک بدو کی بانہوں میں

islamkidunya

دو اونٹنیوں کا قافلہ تیزی سے یثرب کی طرف رواں دواں تھا۔اب یہ نبی مُدلج کے علاقے قُدید سے گزر رہا تھا۔ ان اونٹنیوں پر چار افراد سوا رتھے۔ان میں ایک بزرگ جس کی داڑھی کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے بڑی بے تابی سے کبھی آگے کبھی پیچھے دیکھ رہے تھے۔ گویا کسی بھی خطرے کو بھانپ کر اس کا مقابلہ کرنے کی دُھن میں تھے۔یہ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ تھے۔اس قافلے کے سربراہ امام الانبیاء ،کائنات کے امام سید البشر محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ادھر بنو مدلج کے سردار سراقہ بن مالک اپنے گھر میں اپنے حواریوں سمیت بیٹھا گفتگو کر رہا تھا۔ اچانک ایک شخص اندر داخل ہوا۔ کہنے لگا: سراقہ! میرا خیال ہے کہ محمد(ﷺ) اس وقت اپنے ساتھیوں سمیت ساحل سمندر سے گزر رہے ہیں۔ میں ابھی ابھی انہیں دیکھ کر آ رہا ہوں۔سراقہ سمجھ گیا کہ یہ وہی لوگ ہیں۔ ان دنوں مکہ کے اردگرد تمام قبائل اور بستیوں میں ایک ہی موضوع زیر بحث تھا کہ اس قافلے کو کس طرح روکا جائے اور انہیں زندہ یا مردہ( معاذ اللہ) قریشَ مکہ کے حوالے کیا جائے۔اس مذموم کاروائی کے لیے سو سرخ اونٹوں کا انعام مقرر تھا۔ اور یہ اتنا بڑا انعام تھا کہ اسے حاصل کے نے کے لیے ہر شخص بے قرار تھا۔

سراقہ نے پہلو بدلا، اس کے ذہن مین یہ خیال بجلی کی طرح کوند گیا کہ یہ انعام مجھے ملنا چاہیئے۔آخر میں اس قبیلے کا سردار ہوں۔اور یہ قافلہ میرے علاقے سے گزر رہا ہے۔میں اس پر قابو پا سکتا ہوں لیکن اگر کوئی شخص میرے ساتھ اس قافلے پر قابو پانے میں شریک ہوتا ہے تو انعام تقسیم ہوسکتا ہے۔اس نے ایک لمحے سوچا پھر اس شخص کو گھورتے ہوئے کہا:تمہارا اندازہ غلط ہے۔بھلا محمد(ﷺ) یہاں سےکہاں گزر سکتے ہیں۔یہ وہ لوگ نہیں ،بلکہ تم نے کسی اور کو دیکھا ہے جو تمہاری نظروں کے سامنے سے گزرے ہیں۔قافلے کی خبر دینے والا شخص خجالت محسوس کر رہا تھا۔ادھر سراقہ نے اپنی لونڈی کو طلب کیا اور اس کے کان میں کہا: فوراً میرے گھوڑے پر زین کسو اور اسے تیار کر کے فلاں جگہ کھڑی ہو جاؤ ۔خبردار! کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو،میں تھوڑی دیر میں آرہا ہوں۔ہاں جلدی جلدی کرنا،تاخیر ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔پھر وہ اہلِ مجلس کے ساتھ کسی اور موضوع پر گفتگو کرنے لگا۔

اس کا ذہن مسلسل قافلے کے تعاقب میں تھا۔جب اندازہ ہو گیا کہ اس کی لونڈی گھوڑا تیار کرکے مقرر مقام پر پہنچ چکی ہو گی۔ تو اس نے اہل مجلس سے گھر میں ضروری کام کا بہانہ کیا اور اپنے گھر کے بچھواڑے سے باہر نکل گیا۔اس نے نیزہ سنبھالا، گھوڑے پر سوار ہو کر اسے قافلے کی طرف دوڑایا۔ گھوڑا پوری قوت سے سرپٹ دوڑ رہا تھا۔اچانک گھوڑا پھسلا اور سراقہ نیچے گر پڑا۔

اس نے اُٹھ کر ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا۔پانسے کے تیر نکالے اور یہ جاننا چاہا کہ میں انہیں ضرر پہنچا سکوں گا یا نہیں؟ ۔اتفاق کی بات کہ تیر وہ نکلا جو اسے ناپسند تھا۔فال بتا رہی تھی کہ قافلے کا پیچھا کرنا مناسب نہیں۔ مگر سو اونٹوں کا لالچ اسے چین نہ لینے دیتا تھا۔ وہ دوبارہ گھوڑے پر سوار ہوا اور قافلے کے بہت قریب جا پہنچا۔ حتیٰ کہ اس کے کانوں میں اللہ کے رسول ﷺ کی قراءت کی آواز آنے لگی۔ ادھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے بے چین نظر آرہے تھے۔انہوں نے سراقہ کو قریب آتے دیکھا تو بے اختیار پکار اُٹھے: اللہ کے رسولﷺ! یہ پیچھا کرنے والا اب ہمیں پکڑنے ہی والا ہے۔ ادھر عزیمت کے پہاڑ، اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرنے والے پیغمبرﷺ نے بڑے اعتماد سے جواب دیا:ابو بکر!( لا تخزن ان اللہ معنا)” میرے یارِ غار! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”

سراقہ کا گھوڑا مسلسل دوڑ رہا تھا۔ بتدریج قریب ہو رہا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پریشانی کے عالم میں رو پڑے۔ارشاد ہوا: ابو بکر! کیوں رو رہے ہو؟۔عرض کیا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان! میں اپنی جان کے خوف سے نہیں بلکہ آپ کی خاطر رو رہا ہوں۔

رسالت مآب ﷺ کے ہاتھ بے اختیار آسمان کی طرف اٹھ گئے۔بارگاَ الہٰی میں عرض کیا:”اے اللہ ! تو جیسے چاہے اس سے ہمیں بچا لے”۔

ادھر زبانِ اقدس سے یہ الفاظ نکلے،ادھر سراقہ کا گھوڑا دوبارہ لڑکھڑا کر گر پڑا اور اس مرتبہ اس کے اگلے دونوں پاؤں گھٹنوں سمیت سخت زمین میں دھنس گئے۔اب سراقہ نے دوبارہ پانسے کے تیر سے فال نکالی۔ وہی تیر نکلا جو اسے ناپسند تھا۔ اب اس کی سمجھ میں آگیا کہ اس قافلے کا پیچھا کرنا سراسر غلط کام ہے۔جو بھی اس کا پیچھا کرے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ محمد(ﷺ) غالب آکر رہیں گے۔ اس نے قافلے والوں کو پکارا اور کہا:اے محمد(ﷺ)! میں جان چکا ہوں کہ آپ(ﷺ) کی مخالفت کے باعث میرا گھوڑا زمین میں دھنس گیا ہے۔اللہ سے دعا فرمائیے، وہ مجھے نجات دے، میں نہ صرف خود آپ (ﷺ) کا تعاقب چھوڑ دوں گا بلکہ اس طرف آنے والوں کو بھی لوٹا دوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی تو زمین نے اسے چھوڑ دیا۔سراقہ نے عرض کیا:”میرے لیے پروانہ امن لکھ دیجیے جو میرے اور آپﷺ کے درمیان بطور نشانی رہے گا”۔آپ ﷺ نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ کو حکم دیا کہ اسے امان لکھ دو۔ انہوں نے چمڑے کے ٹکڑے پر امان نامہ لکھ دیا۔ سراقہ نے آپ ﷺ کو قریش کے عزائم اور سو اونٹوں کے انعام کے بارے میں آگاہ کیا اور آپ کو زادِ سفر اور سازو سامان کی پیش کش کی۔

مگر آپ ﷺ نے کسی بھی قسم کا سامان لینے سے انکار کردیا۔ صرف یہ فرمایا: ہمارے بارے میں رازداری سے کام لینا۔(1)

سراقہ وہاں سے جانے لگا تو اچانک اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:”

(کیف بک اذا لبست سواری کسرٰی و منطقتہُ و تاجہُ)” سراقہ! تمہیں کیسا لگے گا،جب تم کسرٰی بن ہرمز کے دونوں کنگن ،پیٹی اور اس کا تاج پہنو گے”۔

سراقہ نے بڑے تعجب سے یہ بات سُنی۔وہ سوچ میں پڑ گیا کہ کہاں کسرٰی بن ہرمز اور اس کے کنگن اور کہاں میں۔(2)..

اس کے بعد قافلہ یثرب کی طرف بڑھ گیا۔سراقہ واپس آیا تو دیکھا کہ لوگ قافلہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ سراقہ کہنے لگا:ادھر کی کھوج خبر تو میں دور دور تک کر چکا ہوں۔ تمہیں اس طرف جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں تمہارے حصّے کا کام کر چکا ہوں۔ پھر جب اللہ کے رسولﷺ بحفاظت مدینہ منورہ پہنچ گئے تو سراقہ نے لوگوں کو یہ واقعہ سُنایا۔سراقہ نے امان نامہ سنبھال کر رکھا۔وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ مکہ فتح ہوا۔ آپ ﷺ حنین اور طائف سے فتح یاب ہو کر جُعرانہ کے مقام پر قیام فرما ہوئے۔

بنی مدیج کا یہ سردار یہی امان نامہ لیے اللہ کے رسول ﷺ سے ملنے آیا۔ بدو آدمی تھا۔ تمام رکاوٹوں کو عبور کرتا آگے بڑھ رہا تھا۔ انصار کے ایک گھوڑ سوار نے اسے روکا کہ ” ارے!کہا منہ اُٹھائے جارہے ہو؟”۔ اس نے جواب میں وہی پروانہ جیب سے نکالا اور اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھایا۔آپ ﷺ اس وقت اونٹنی پر سوار تھے۔عرض کرنے لگا:”یا رسول اللہ ﷺ! یہ آپ ہی کا دیا ہوا امان کا پروانہ ہے۔میں سراقہ بن مالک ہوں”۔

ارشاد ہوا:” آج کا دن وفا نبھانے کا دن ہے۔ نیکی اور احسان کرنے کا دن ہے۔ میرے قریب آ جاؤ۔(3)

پھر چند لمحات کے بعد سراقہ بن مالک کو صحابی بننے کا شرف نصیب ہوا۔ اب وہ اسلام کا ایک سچا سپاہی تھا۔مسلمانوں کی فتوحات تیزی سے بڑھ رہی تھیں۔عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں اللہ کے رسول ﷺ کی پیش گوئی ہوئی۔

آپ ﷺ کے نامہ مبارک کو چاک کرنے والے کسرٰی کی حکومت پاش پاش ہوئی ۔اس کا غرور خاک میں مل گیا۔ اس کے خزانوں کو توڑا گیا۔ کسرٰی بن ہرمز کا تاج اس کی پیٹی اور کنگن مدینہ منورہ بھیجے گئے۔

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: لوگو! سراقہ بن مالک کو بلاؤ، میرے نبی کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔سراقہ آتے ہیں۔ ارشاد ہوا ہاتھ اٹھاؤ۔پھر آپ نے ان کے ہاتھوں میں کسرٰی کے کنگن پہنائے اور فرمایا:اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے ان کنگنوں کو کسرٰی بن ہر مز سے چھینا، وہ کسرٰی جو کہتا تھا:” میں لوگوں کا رب ہوں”۔آج اللہ نے مسلمانوں کو یہ عزت و وقار عطا فرمایا کہ بنی مدلج کے ایک بدو کو اس کا مالک بنا دیا۔(4)

اس طرح بنی کریم ﷺ نے خندق کی کھدائی کے موقع پر جو پیش گوئی فرمائی تھی کہ مجھے کسرٰی کے خزانوں کی چابیاں عطا کردی گئی ہیں وہ بھی فتح مدائن کے موقع پر پوری ہو گئی اور آپ کے خدام کو وہ چابیاں عطا کردی گئیں….سبحان اللہ. 

(1)۔۔صحیح بخاری،حدیث نمبر 3906، والسیرۃ النبوۃ لابن ہشام:2/۔102 103)

(2)۔۔اسد الغابۃ:2/۔414)

(3)۔۔السیرۃ النبوۃ لابن ہشام:2/۔103۔104،فتح الباری:7/۔303)

(4)۔۔اسد الغابۃ:2/۔414)

Comments

Next Post

Huzoor Jante Hain Lyrics

Huzoor Jaante Hain Naat Lyrics Jo ho chuka hai jo hoga Huzoor jaante hainTeri atta se khudaya Huzoor jaante hainWo mominon ki to jano’n se bhi qareeb huyeKahan se kis ne pukara Hazoor jaante hainHiran yeh kehne lagi chor dy mujhe ay siyaadMai lout aongi Wallah Hazoor jaante hainHai Un […]
Huzoor Jaante Hain Naat Lyrics
%d bloggers like this: