مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا

islamkidunya
مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا - اُرْدُو نعت لیرکس

مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا – اُرْدُو نعت لیرکس

Mujh pe Bhi Chashme Karam Aye Mere Aaqa Karna

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا

حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا

میں کہ زرہ ہوں مجھے وسعتِ صحرا دےدے

کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو دریا کرنا

میں ہوں بےکس تیرا شیوہ ہے سہارہ دینا

میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا

تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے

کہ تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا

تیرے صدقے وہ اُسی رنگ میں خود ہی ڈوبا

جس نے جس رنگ میں چاہا مجھے رسوا کرنا

یہ تیرا کام ہے اے آمنہ کے درِ یتیم

ساری امت کی شفاعت تنِ تنہا کرنا

کثرتِ شوق سے اوصاف مدینے میں ہیں گم

نہیں کُھلتا کہ مجھے چاہیے کیا کیا کرنا

شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا

بزمِ عالم کو سجا کر تیرا چرچا کرنا

بصراحت ورفعنالک ذکرک میں ہے

تیری تعریف کرنا تجھے اونچا کرنا

تیرے آگے وہ ہر اک منظرِ فطرت کا ادب

چاند سورج کا وہ پہروں تجھے دیکھا کرنا

تبِ اقدس کے مطابق وہ ہواؤں کا خیرام

دھوپ میں دوڑ کے وہ ابر کا سایہ کرنا

کنکروں کا تیرے اعجاز سے وہ بول اٹھنا

وہ درختوں کا تیری دید پہ جھوما کرنا

وہ تیرا درس کہ جھکنا تو خدا کے آگے

وہ تیرا حکم کہ خالق کو ہی سجدہ کرنا

چاند کی طرح تیرے گرد وہ تاروں کا ہجوم

وہ تیرا حلقہ اصحاب میں بیٹھا کرنا

کعبہ قوسین کی منزل پہ یکایک وہ طلب

شبِ اسرا وہ بلانا تجھے دیکھا کرنا

دشمن آجائے تو اٹھ کر وہ بچھانا چادر

حسنِ اخلاق سے غیروں کو بھی اپنا کرنا

کوئی فاروق سے پوچھے کہ کسے آتا ہے

دل کی دنیا کو نظر سے تہہ وبالا کرنا

اُن صحابہ کی خشت وار نگاہوں کو سلام

جن کا مسلک تھا طوافِ رخِ زیبا کرنا

مجھ پہ محشر میں نصیر اُن کی نظر پڑھ ہی گئی

کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا

Poet: Pir Naseer ud Din Naseer R.A

(لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا (مع ترجمہ

لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے

مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو

محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا

Comments

Leave a Reply

Next Post

اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے

 نعت لیرکس – اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے UTHA DO PARDA DIKHA DO CHEHRA LYRICS اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے انہیں وہ میٹھی نگاہ […]
اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
%d bloggers like this: