لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

islamkidunya
LO MADINE KI TAJALLI SE LAGAYE HUYE HAIN

اُرْدُو نعت لیرکس – لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

LO MADINE KI TAJALLI SE LAGAYE HUYE HAIN

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

 

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں

اک جھلک آج دکھا گنبد خضرٰی کے مکیں

کچھ بھی ہیں ، دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں

سر پہ رکھ دیجے ذرا دستِ تسلی آقا

غم کے مارے ہیں ، زمانے کے ستائے ہوئے ہیں

نام کس منہ سے ترا لیں کہ ترے کہلاتے

تیری نسبت کے تقاضوں کو بُھلائے ہوئے ہیں

گھٹ گیا ہے تری تعلیم سے رشتہ اپنا

غیر کے ساتھ رہ و رسم بڑھائے ہوئے ہیں

شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا

یہ بھی کیا کم ہے ، ترے شہر میں ائے ہوئے ہیں

تری نسبت ہی تو ہے جس کی بدولت ہم لوگ

کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں

کاش دیوانہ بنا لیں وُہ ہمیں بھی اپنا

ایک دنیا کو جو دیوانہ بنائے ہوئے ہیں

اللہ اللہ مدینے پہ یہ جلووں کی پھُوار

بارشِ نور میں سب لوگ نہائے ہوئے ہیں

کشتیاں اپنی کنارے سے لگائے ہوئے ہیں

کیا وہ ڈوبے جو محمد کے ترائے ہوئے ہیں

اُرْدُو نعت لیرکس

نام آنے سے ابوبکر و عمر کا لب پر کیوں بگڑتا ہے

وہ پہلو میں سلائے ہوئے ہیں

حاضر و ناظر و نور و بشر و غیب کو چھوڑ

شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے ہوئے ہیں

قبر کی نیند سے اٹھنا کوئی آسان نہ تھا

ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں

کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھاری ہو نصیر

اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں

اک جھلک آج دکھا گنبد خضرٰی کے مکیں

کچھ بھی ہیں ، دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں

سر پہ رکھ دیجے ذرا دستِ تسلی آقا

غم کے مارے ہیں ، زمانے کے ستائے ہوئے ہیں

نام کس منہ سے ترا لیں کہ ترے کہلاتے

تیری نسبت کے تقاضوں کو بُھلائے ہوئے ہیں

گھٹ گیا ہے تری تعلیم سے رشتہ اپنا

غیر کے ساتھ رہ و رسم بڑھائے ہوئے ہیں

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں

بھر دو جھولی میری یا محمد  لوٹ کر میں نہ جاوّں گا خالی 

اے صبا مصطفٰی سے کہہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں

Comments

Leave a Reply

Next Post

Ab Tangi-e-Daman Pe Na Ja Aur Bhi Kuch Mang

Ab Tangi-e-Daman Pe Na Ja Aur Bhi Kuch Mang – Urdu Naat Lyrics Ab Tangi-e-Daman pe na ja aur bhi kuch mangHein Aaj wo Maeel ba ata aur bhi kuch mang Har chand ke Aaqa ne bhara hai Tera KashkolKamzarf na ban Hath bada Aur bhi kuch mang Sultane Madina […]
Ab Tangi-e-Daman Pe Na Ja Aur Bhi Kuch Mang
%d bloggers like this: