اُرْدُو نعت لیرکس

اُرْدُو نعت لیرکس

Naat Lyrics in Urdu Font

Ala-Hazrat Naat Lyrics in Urdu Font | Manqbat Lyrics in Urdu Font

Naat Shareef Poetry in Urdu Font

ا   

   

آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا

آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار 

اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے

اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے

احمد کہُوں کہ حامدِ یکتا کہُوں تجھے

ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی

اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبیﷺ کر دیا

اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا ​

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں

(الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ (مع ترجمہ

اللہ نے پہنچایا سرکارﷺ کے قدموں میں

الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریں

اے ختمِ رسل خاصۂ خاصانِ الٰہی

اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا

اے صبا مصطفٰی سے کہہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں

اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا 

 

ب , پ , ت 

بڑی امید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے

بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا

بھر دو جھولی میری یا محمد  لوٹ کر میںنہ جاوّں گا خالی 

بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون

بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ

بے مثل ہے کونین میں سرکار کا چہرہ

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں

پھر در مصطفی کی یاد آئی

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں  

پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے ​

پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے

تذکرہ سُنئیے اب اُن کا دِلِ بیدار کے ساتھ 

تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے

تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ

تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا

تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی

 

چ , ح , خ   

 

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

چلو دیارِ نبیﷺ کی جانب درود لب پر سجا سجا کر

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

حالِ دل کس کو سناوں آپ کے ہوتے ہوئے

حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے

حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے

حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں 

خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا

خراب حال کیا دل کو پُر ملال کیا

خود میرے نبی نے بات یہ بتا دی ، لانبی بعدی

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے

 

ر , ز 

 

دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے

دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو

رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے

زہے عزت و اعتلائے محمد

 

س , ص , ط

 

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں

سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ

سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ

 

ع , غ . ف

  

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

عاصیوں کودرتمہارامل گیا

عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی

عکسِ روئے مصطفےﷺ سے ایسی زیبائی ملی

غلام حشر میں جب سید الوریٰ ﷺ کے چلے

غم ہو گئے بے شمار

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں

 

ق , ک , گ   

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے

کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ

قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں

کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے

گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر

گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ

 

ل , م , ن

   

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

(لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا (مع ترجمہ

لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے

مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو

مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا

محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے

مولاي صلــــي وسلــــم دائمـــاً أبــــدا – قصیدہ بردہ شریف

میرا بادشاہ حسین ہے

میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے

ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​

نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض​

نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے

نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے

نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا

 

و , ہ , ی

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں ​

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا

ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے

ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے

بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون

ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم

یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام

یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی

یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے

یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا

 

 COLLECTION OF NAAT LYRICS

Naat Lyrics:

  • URDU NAAT
  • PUNJABI NAAT 

 MANQABAT LYRICS

  • MANQABAT-E-HAZRAT ALI (R.A)
  • [MANQBAT-E-IMAM HUSSAIN (R.A)]
  • MANQABAT-E-GHOUS-E-AZAM 
Comments
%d bloggers like this: