Site icon ISLAM KI DUNYA

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

UNKI MAHAK NE DIL KE GUNCHE KHILA DIYE HAIN

اُرْدُو نعت لیرکس – ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

UNKI MAHAK NE DIL KE GUNCHE KHILA DIYE HAIN

 

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

 

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسادیئے ہیں

جب آگئی ہیں جوش رحمت پہ ان کی آنکھیں

جلتے بجھا دیئے ہیں روتے ہیں ہنسا دیئے ہیں

اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا

تم نے تو چلتے پھرتے ہیں مردے جلا دیئے ہیں

ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو

جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلادیئے ہیں

ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اٹھتے ہونگے

اب تو غنی کے در پر بستر جما دیئے ہیں

اسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قدسیوں کے

ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دیئے ہیں

آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب

کشتی تمہیں پہ چھوڑی لنگر اٹھادیئے ہیں

دولہا سے اتنا کہہ دو پیارے سواری روکو

مشکل میں ہیں براتی پر خار با دیئے ہیں

اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہوگا

رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیئے ہیں

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا

دریا بہا دیئے ہیں در بے بہا دیئے ہیں

ملک سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلم

جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

Unki mehak ne Dil k ghunchey khila diye hain| by Alhaj owais Raza Qadri sahab

(لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا (مع ترجمہ

اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں

اردو اسلامی مضامین

Comments
Exit mobile version